552

برطانوی سیکیورٹی حکام نے تارکین وطن کو گرفتار کر لیا

راچڈیل(ہارون مرزا)برطانوی حکومت کی طرف سے مہاجرین کو افریقی ملک روانڈا پروسیسنگ کیلئے بھجوائے جانے کے سخت ترین قانون متعارف کرانے سمیت دیگر اقدامات کے باوجودغیر قانونی مہاجرین کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ روز ایک ننھے بچے سمیت کم از کم 100تارکین وطن چھوٹی کشتی کے ذریعے انگلش چینل کو عبور کرکے برطانیہ داخل ہوئے جنہیں سیکورٹی حکام نے تحویل میں لے لیا حکومتی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک 15,000سے زیادہ افراد سفر کر چکے ہیں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہرکے دوران برطانوی سمندر میں خطرناک سفر کرنیوالے مہاجرین کو بارڈر فورس کی گشتی ٹیموں نے ساحل تک پہنچنے میں مدد فراہم کی نئے عارضی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2022میں لوگوں نے زیادہ خطرناک سفر کیا ،تقریباً دوگنا سے بھی زائد ‘ ابتک پندرہ ہزار سے تعداد تجاوز کر چکی، اس میں تیزی کے ساتھ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے سال 2021میں یہ تعداد 7ہزار735 تھی۔ وزارت دفاع (ایم او ڈی) کا کہنا ہے کہ تارکین وطن نے گزشتہ 12دنوں سے ہر روز سفر کیا8 جولائی سے 18 جولائی کے درمیان 2,411 نے خطرناک مہم جوئی میں حصہ لیا، ہیٹ ویو کے دوران پرسکون سمندروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چینل عبور کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، چینل میں درجہ حرارت رات بھر میں نسبتاً ٹھنڈا 20 سینٹی گریڈ رہا،پہلے گروپ کو آر این ایل آئی لائف بوٹ پر ڈوور لے جایاگیادوسرے گروپ میں بھی بیس کے قریب لوگ سمندر میں روکے گئے ان میں سے ایک شخص زخمی اور لنگڑاتا دیکھا گیاجسے بارڈر فورس کے عملے نے جہاز سے اتارنے میں مدد کی ۔کئی بچوں کو بھی کشتی سے اترتے ہوئے دیکھا گیاجس میں ایک سب سے چھوٹا لڑکا بھی شامل تھا ،چند منٹ بعد بارڈر فورس کا کٹر ڈیفنڈر تقریباً 30 مزید تارکین وطن کو ساحل پر لے گیا پے در پے تارکین وطن کی آمد سے برطانوی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں