1,440

برطانیہ خاتون کونسلر کو سزا

لوٹن (اسراراحمد راجہ) لوٹن کی ایک لیبر کونسلر جس نے اپنی ہی مقامی اتھارٹی کو ہزاروں پاؤنڈز کا دھوکہ دیا، کو جمعہ کے روز 8ماہ کی معطل قید کی سزا سنائی گئی۔ حناادریس جسے کونسلر کے طور پر نااہل قرار دیا جائے گا، نے تقریباً 7500پاؤنڈ لیے جس کا مقصد اپنے دماغی طورپر مفلوج چچا کی دیکھ بھال تھا، لوٹن کراؤن کورٹ نے سماعت کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ کونسلر حنا کو پیرا لیگل نے یونیورسٹی آف لاء میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیے اپنی پڑھائی کیلئے £3,443.80ادا کیے اور اس کے ساتھ اجرت کے طور پر مزید £2,373لیے۔ دیگر اخراجات میں اس نے خواتین کے کپڑوں، ایمیزون اور پارکنگ ٹکٹ پر بھی یہ پیسہ خرچ کیا۔ کون وے روڈ، لوٹن کی 26سالہ حناادریس نے مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کا جرم قبول کر لیا ہے، واضح رہے استغاثہ اس کی اپنی کونسل، لوٹن بورو کی طرف سے لایا گیا تھا۔ پراسیکیوٹر اینڈریو جانسن نے کہااس نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا کیونکہ اس نے اپنے رشتہ دار کے لیے براہ راست ذاتی نگہداشت کی ادائیگی حاصل کرنے کا اختیار دیا کیونکہ یہ اس اتھارٹی کی منتخب رکن ہیں جو اس پرمقدمہ چلاتی ہے جب کہ حنا نے اس ہی سے یہاں دھوکہ کیا۔اینڈریو جانسن نے کہا کہ چچا کے پاس کونسلر کے زیر انتظام بینک اکاؤنٹ میں براہ راست رقم کی ادائیگی تھی۔ یہ نظام معزور افراد کورقم کی وصولی میں زیادہ خود مختاری دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھالیکن حقیقت یہ ہے کہ جورقم فراہم کی گئی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس پیسے کو کسی بھی طرح سےاستعمال کرنے کی غیر متزلزل صلاحیت ہے جو وہ مناسب سمجھتے ہیں۔ اس کے چچا کو 2011میں دل کا دورہ پڑنے سے دماغی نقصان پہنچا تھا، حناادریس نے دسمبر 2017میں اپنے چچاکے اکاؤنٹ کا انتظام سنبھال لیا جب کہ مئی 2019میں لوٹن میں ڈیلو وارڈ کی کونسلر بنیں، اینڈریو جانسن نے کہا کہ دسمبر 2017اور نومبر 2019کے درمیان جب ادائیگیاں ختم ہوئیں، £28,000ادا کیے گئے۔ مدعا علیہ کو رسیدیں اور بینک اسٹیٹمنٹ فراہم کرنے کی ضرورت تھی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ رقم کیسے استعمال کی جا رہی تھی، پراسیکیوٹر نے کہاجب دستاویزات فراہم کی گئیں تو یہ صاف ظاہر تھا کہ فنڈز کیئر پلان کے مطابق استعمال نہیں ہورہے تھے۔ سب سے اہم رقم یونیورسٹی آف لاء کو ادا کی گئی£3,443.80ہے، یہ قبول کیا جاتا ہے کہ یہ اس کی پڑھائی کےلیے فنڈز کا غلط استعمال تھا۔ انہوں نے کہا کہ £2,373بھی خود کو بطور اجرت ادا کیے گئے جس کی اجازت نہیں ہے، حنا کا دفاع کرتے ہوئے، ایما کٹنر نے کہااس نے اعلیٰ سطح پر پچھتاوا دکھایا ہے اور عام زندگی میں یہ ایک اچھےکردار کی مالک ہے۔ ایما کٹنر نے مزید کہاحناایک 26سالہ نوجوان لڑکی ہے جس کا مستقبل روشن ہے ، حنا نےبیڈفورڈ شائر یونیورسٹی سے فرسٹ کلاس کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی آف لاء سے ماسٹرز کیا جس سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ دھوکہ دہی کی عادی مجرمہ نہیں ہے، ایما نے کہا کہ وہ کونسل کے لیے منتخب ہوئی ہیں، مقامی کمیونٹی میں رضاکارانہ طور پر اور لوٹن سنٹرل مسجدمیں بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس کے سامنے ایک بہت روشن مستقبل تھا لیکن اس کے اپنے اعمال سے یہ برباد ہو گیا ہے، اس کے وکیل بننے یاسیاست میں جاری رہنے کے امکانات ا گر ناممکن نہیں تو بہت کم ہو گے ہیں۔ ریکارڈر ہاورڈ کوہن نے بتایا کہ یہ ایک اعلیٰ مجرمانہ دھوکہ دہی تھی کیونکہ ایک طویل عرصے تک اس عمل کو جاری رکھاگیااور اس میں بطور کونسلر فرائض اور عہدے کا زبردست غلط استعمال شامل تھا، انھوں نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فوائد کا استعمال کیا جس کا مقصد معاشرے کے کمزور افراد کی مددکرنا ہے اور آپ نے اتھارٹی اور ان حلقوں کو دھوکہ دیا جن کی خدمت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا تھا۔ کورٹ نے 18ماہ کے لیے معطل 8ماہ کی سزا اس شرط کے ساتھ منظور کی کہ کونسلر حنا ادریس 200گھنٹے کا بلامعاوضہ کام مکمل کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں