1,593

سماہنی بیوی کو منانے گئے نوجوان کی لاش واپس آئی

سماہنی(تحصیل رپورٹر)وادی سماہنی کے گا¶ں گگریلہ سے ناراض بیوی کو منانے کے لیے اسلام گڑھ کھنگال جانے والے نوجوان کی پر اسرار ہلاکت کے تانے بانے نوجوان کے موبائل فون ریکارڈ سے کھلنے لگے۔قتل کی لرزہ خیز واردات کے شواہد کھلنے پر علاقہ بھر میں غم و غصہ کی لہر جنم لینے لگی۔ورثاءنے چند روز قبل دفن کیے گئے نوجوان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے متعلقہ تھانے میں درخواست بھی دائر کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق 10 جون کی شام 28 سالہ اشتیاق سلیم ولد محمد سلیم اپنے سسرال اسلام گڑھ کھنگال گیا جہاں سے دوسری صبح خالد گجر نامی شخص نے اشتیاق کے والدین کو فون پر اطلاع دی کہ اشتیاق نے زہر کھا لیا ہے اور چند منٹ بعد دوبارہ فون کال کی کہ اشتیاق ہلاک ہو گیا ہے۔والدین کو نعش ڈی ایچ کیو میرپور سے وصول ہوئی گھر لا کر نعش کو غسل دینے والوں کے مطابق اشتیاق کے سینے اور سر پر چوٹوں کے نشان تھے۔ایک جبڑا ایک طرف سے سوجھا ہوا بھی تھا جبکہ کان اور منہ سے خون نکلنے کے نشانات بھی موجود تھے۔اس سب کے باوجود نعش کو نمازِ جنازہ کے بعد دفنا دیا گیا مگر دو دن بعد اہلِ خانہ نے اشتیاق کے موبائل فون کو چیک کیا تو قتل کی لرزہ خیز واردات کے راز کھلنے لگے کیونکہ اشتیاق نے اپنی جان کو خطرے میں محسوس کرتے ہی اپنا فون ریکارڈنگ پر لگا دیا تھا جس میں تشدد کی کاروائیوں کی تمام ریکارڈنگ محفوظ ہو گئی۔جس کے بعد علاقہ کے معززین نے ایک جرگہ بھی منعقد کیا اور یوں اشتیاق کے والدین نے متعلقہ تھانہ اسلام گڑھ میں مقتول کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دائر کر دی ہے۔کشمیر پریس کلب سماہنی سے بات چیت کرتے ہوئے علاقہ کے معززین جاجی میں اسلم، چوہدری محمد یاسین، مدثر اقبال اور دیگر نے کہا ہے کہ انتظامی ادارے فوری طور پر قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم کا اہتمام کریں تاکے نوجوان کی پراسرار ہلاکت کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جا سکے۔مظلوم خاندان کو انصاف ملنے تک ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، اشتیاق سلیم ایک گھر کا ہی نہیں بلکہ اپنے علاقے کا بیٹا تھا سو ہم اہل علاقہ قانون و انصاف کے اداروں کا ہر در کھٹکھٹائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں