125

راجہ پرویز اشرف نے حلف اٹھالیا، قومی اسمبلی کے 22ویں اسپیکر بن گئے

راجہ پرویز اشرف نے حلف اٹھالیا، قومی اسمبلی کے 22ویں اسپیکر بن گئے
ایاز صادق نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔اور وہ اسپیکر قومی اسمبلی کی کرسی پر براجمان ہوگئے
پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے سال میں بطور اسپیکر میرا انتخاب میرے لیے باعث مسرت ہے
اسلام آباد(صباح نیوم)سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔سپیکر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں کے مستعفی ہوجانے کی وجہ سے اجلاس کی صدارت پینل آف چیئرپرسن میں شامل مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میںشروع ہوا۔اجلاس کے آغاز میں قائد ایوان شہباز شریف نے اسمبلی میں اظہار خیال کیا،ایاز صادق نے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں آئٹم نمبر 5 پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے صرف راجہ پرویز اشرف واحد امیدوار تھے جن کے تجویز کنندگان خورشید شاہ اور نوید قمر تھے اور یوں وہ بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے 22ویں اسپیکر بنے ہیں اور ایاز صادق نے ان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔اور وہ اسپیکر قومی اسمبلی کی کرسی پر براجمان ہوگئے ۔ ان کے اسپیکر منتخب ہونے کے اعلان پر گیلریز میں موجود مہمانوں کی زبردست نعرے بازی کی۔اسپیکر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی باوقار منصب پر فائز ہونے پر اللہ تعالی کا انتہائی شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس منصب پر بلامقابلہ منتخب کرنے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، قائد ایوان میاں محمد شہباز شریف اور دیگر تمام پارلیمانی زعما اور اراکین پارلیمان کا تہیہ دل کا شکرگزار ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے سال میں بطور اسپیکر میرا انتخاب میرے لیے باعث مسرت ہے۔اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ اس معزز ایوان کی تعظیم و توقیر میں اضافہ میرا مطمع نظر اور اولین ترجیح ہے، اسپیکر کا منصب تمام تر غیر جانبداری اور بردباری کا متقاضی ہے اور کسٹوڈین آف ہاوس ممبران کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اس کی ا ولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس منصب کے لیے اس معزز ایوان نے میرا بلا مقابلہ انتخاب کیا اس منصب پر سب سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح کو بلا مقابلہ اپنا پہلا سربراہ منتخب کیا گیا تھا اور یہ ایوان ذوالفقار علی بھٹو کو بھی بطور کسٹوڈین آف ہاس منتخب کر چکا ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قائدِ اعظم کا خطاب جہاں پاکستان کا پہلا سرکاری اور قومی آئینی بیانیہ ہے وہیں ریاستی ڈھانچے میں مقننہ کے مرکزی کردار پر بھی مہر تصدیق ثبت کرتا ہے، انہوں نے فرامایا تھا کہ یاد رکھیے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو ہی تمام اختیارات حاصل ہیں۔خیال رہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی شامل تھی جو ان کے مستعفی ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکی۔اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دیگر اہم رہنما شریک تھے،خیال رہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اس وقت اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانی تھی۔دوسری جانب ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ہفتہ کو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل اپنے عہدے سے استعفی دے دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں