2,164

کوٹلی میں حوا کی بیٹی ظلم کا شکار

کوٹلی کلر کالونی کی رہائشی بیوہ عاصمہ طارق اپنے ہی گھر سے بے دخل ،سسرالی جان کے دشمن بن گئے
سسرالی آئے روز تشدد کرکے مرحوم خاوند کی جمع پونجی اور گھر چھیننے کے درپے ہیں ،عاصمہ طارق کی دہائی
وزیر اعظم آزادکشمیر ،چیف سیکرٹری اور آئی جی آزادکشمیر انصاف دلائیں ،عاصمہ طارق کی بیٹے کے ہمراہ اپیل
عدالت نیوز

کوٹلی کلر کالونی کی خاتون عاصمہ بیوہ طارق بے بسی کی تصویر بن گئی خاوند کے مرنے کے بعد سسرالیوں نے مجھ سمیت میرے 9سالہ بیٹے حماد طارق پر تشدد کر کے ہمیں اپنے ہی گھر سے نکال دیا،کوٹلی انتظامیہ بھی تخفظ فراہم کرنے میں ناکام وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویرالیاس اور چیف سیکریٹری،چیف جسٹس آزاد کشمیر ہمیں انصاف دلوائیں انصاف نہ ملا تو خود سوزی کرلوں گی
عاصمہ طارق نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی درد بھری داستان سنائی اس خاتون کا کہنا تھا کہ میرا خاوند محمد طارق جو روزگار کے سلسلہ میں دوبئی میں مقیم تھا خراب صحت کے باعث میرے خاوند کی دوبئی میں موت واقع ہو گئی جس کے بعد سسرالیوں طارق کے بھائیوں،ساس، وغیرہ نے تشدد کرنا شروع کر دیا
عاصمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال تک سسرالوں کا ظلم برداشت کیا انکا بس ایک ہی مطالبہ تھا کہ بس اپنا گھر ہمارے حوالے کرو اور چلتی بنو لیکن میں اپنے شوہر کی قبر کو چھوڑ کر اور اپنے معصوم بچے کو لےکر کہاں جاتی؟
میرا زیور،میرے خاوند کی تمام جمع پونجی انکے بھائیوں بلو اور عارف کے پاس تھی جب میں اپنی رقوم اور باقی چیزیں لینے کا مطالبہ کرتی تو مجھ پر سنگین الزامات لگائے جاتے اور تشدد کیا جاتا کبھی گرمیوں میں بجلی کا کنکشن کاٹ دیتےاورکبھی پانی بند کر دیتے میرا معصوم بیٹا پوری پوری رات گرمی کی وجہ سے تڑپتا رہتا مگر ظالموں کو ترس نہ آیا اور میں بے بسی کی تصویر بنی سہتی جاتی رہی
اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان سناتے ہوئے عاصمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے سسرال والے میرے کسی بہن بھائی رشتے دار کو بھی میرے گھر نہیں آنے دیتے جو آتا اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے کئی کئی روز میرے فاقے میں گزر جاتے میرے پاس کھانے تک بھی کچھ نہیں ہوتا
عاصمہ کا کہنا تھا کہ کچھ ہفتے قبل میں ایک سال کے بعد اپنے والدین کے گھر گئی ہوں جب واپس آئی تو میرے ذاتی گھر کے دروازوں پر ڈبل تالےلگے ہوئے تھے جب میں نے دروازے کھولنے کی کوشش کی تو سسرال والے ڈنڈے وغیرہ لے کر پھر تشدد کرنے پہنچ آئے میں نے بھاگ کر جان بچائی اور تھانہ سٹی کوٹلی میں ایپلیکیشن درج کروائی مگر آج 6ہفتے سے زیادہ کا وقت گرزر چکا مگر کوئی کاروائی نہ ہو سکی
والدین کے گھر جانے سے پہلے بھی میں نے تھانہ سٹی میں ایپلیکیشن درج کروائی تھی لیکن تاحال مجھے انصاف نہ مل سکا سپریم کورٹ کے فیصلے ہونے کے باوجود میرا بیٹا فٹ پاتھ اور مسجد کے صحن میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے
عاصمہ نے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس،چیف سیکریٹری،آئی جی،کمشنر میرپور،ڈی آئی جی،ڈپٹی کمشنر کوٹلی،امجد علی مغل،ایس ایس پی کوٹلی ریاض مغل سے مدد وانصاف کی اپیل کردی اگر مجھے انصاف نہ ملا تو خود سوزی کر لوں گی میری موت کے ذمہ دار یہی لوگ ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں